اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اخبار معاریو کے فوجی تجزیہ کار آوی اشکنازی نے کہا ہے کہ صہیونی حلقوں میں اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ ایران کے ساتھ نئی جنگ کب شروع ہو سکتی ہے، اور اس کا جواب زیادہ تر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں اور حکمت عملی پر منحصر ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور صہیونی رژیم ایران کے خلاف اپنے اہداف کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں کئی اسٹریٹجک غلطیوں کا شکار ہوئے ہیں، جن میں وسیع اتحاد قائم کرنے میں ناکامی، بعض اہداف سے پیچھے ہٹنا اور ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف زمینی کارروائی سے گریز شامل ہیں۔
صہیونی تجزیہ کار نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے بھی امریکی اقدامات کو "تزویراتی ناکامی" قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ایران کے "اسٹریٹجک فائدے" کو روکنے کا موقع گنوا چکا ہے۔
آوی اشکنازی نے امریکی صدر کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ اپنی تمام سیاسی اور میڈیا مہمات کے باوجود آخرکار ایک "کمزور" شخصیت کے طور پر سامنے آئیں گے، اور ان کے بقول اس حقیقت کو نہ صرف ایران بلکہ چین اور روس بھی سمجھ چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ